مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی صدر کے دھمکی آمیز بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انتباہ کیا ہے کہ واشنگٹن اگر ایران کو آزمانا چاہتا ہے تو ہم جنگ کے لیے مکمل تیار ہیں۔
انہوں نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ فسادات کے باوجود امریکہ کے ساتھ رابطے کے چینلز کھلے ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران ایک بڑا اور طاقتور ملک ہے اور ہر طرح کی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ بارہ روزہ جنگ کی نسبت ہم کئی گنا طاقتور ہوچکے ہیں۔
اس سے پہلے اتوار کے دن امریکی صدر نے ایران کے نیوکلیئر پروگرام پر مذاکرات کی پیشکش کرنے کے ساتھ ساتھ دھمکی آمیز رویہ بھی اختیار کیا تھا۔ عراقچی نے کہا کہ امید کی جاتی ہے کہ واشنگٹن مذاکرات کا راستہ اختیار کرکے عقلمندی کا مظاہرہ کرے گا تاکہ اپنے مفادات کے تحفظ کو یقینی بناسکے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں فسادات کے دوران دہشت گردوں نے بے گناہ عوام اور سیکورٹی فورسز پر ہدف بناکر حملہ کیا۔ ہنگاموں اور فسادات میں امریکہ اور صہیونی حکومت کے ہاتھ ہیں۔
انٹرویو کے دوران وزیر خارجہ نے کہا کہ حالیہ ہنگاموں سے پہلے اور بعد میں امریکی خصوصی ایلچی ویٹکاف سے رابطہ جاری ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر تہران میں غور کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم جوہری پروگرام پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاہم اس میں کوئی دھمکی یا ڈکٹیشن نہیں ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن بھی منصفانہ اور شفاف مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
آپ کا تبصرہ